بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بارہ تولہ سونا اور ایک لاکھ قرض ہونے کی صورت میں زکوۃ کا حکم

سوال

میرے اوپر جو قرضہ ہے وہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے،  جب کہ میں ابھی قرضہ ادا نہیں کر سکتی اور جو زکوٰۃ  کی رقم ہے  وہ میں نے جمع کی  ہے،  میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں قرض ادا کروں،  جو سونا میرے پاس موجود ہے  وہ 12 تولے سے زیادہ ہے تو کیا میرے اوپر  زکوٰۃ  لازم  ہوگی ؟

جواب

اگر آپ کی ملکیت میں  موجود سونا بارہ تولے  سے زیادہ  ہے اور  قرض ایک لاکھ روپے ہے تو ایسی صورت میں آپ کے اوپر  زکات لازم ہو گی، فی الوقت رقم کی صورت میں قرض کی ادائیگی سے  عاجز  ہونا زکات کے وجوب کے لیے مانع نہ ہوگا، ہاں زکات کا حساب کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے قرض کو منہا کرنا ہوگا، یعنی بارہ تولہ سونے کی مجموعی مالیت میں سے ایک لاکھ روپے منہا کرکے بقیہ رقم پر زکات واجب ہوگی۔ اگر نقد رقم فی الوقت موجود نہیں ہے تو جیسے جیسے آتی رہے اس وقت سونے کی مارکیٹ ویلیو معلوم کرکے زکات ادا کرتی رہیں، اور جتنا جلد ہوسکے زکات ادا کردیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200235
تاریخ17-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں