سحری کا وقت ختم ہوجائے تو منہ میں موجود نوالہ نکالنا ضروری ہے
سوال
روزہ کے لیے سحری کا ٹائم جب ختم ہوجائے تو کھانا پینا بند کر دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا جو کھانے کا نوالہ منہ میں ہوتا ہے یا جو کھانا چبایا جارہا ہوتا ہے، اس دوران سحری کا ٹائم ختم ہوگیا تو کیا وہ نوالہ منہ سے نکالنا ہوگا؟ یا صرف اگلا نوالہ اب نہیں کھاسکتے ؟
جواب
سحری کا وقت صبحِ صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اس کے بعد کھانا پینا جائز نہیں،لہذا سحری کے وقت کے ختم ہونے کے بعد اگر منہ میں نوالہ ہے تو وہ نکالناضروری ہے ،احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں صبح صادق کا جو وقت درج ہوتا ہے ،اس سے دو منٹ پہلے سحری بند کرلینی چاہیے۔
قرآن مجید میں ہے :
﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ [البقرة:187]
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

