بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سحری کا وقت ختم ہوجائے تو منہ میں موجود نوالہ نکالنا ضروری ہے

سوال

روزہ  کے لیے سحری کا  ٹائم جب ختم ہوجائے تو کھانا پینا بند کر دیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا جو کھانے کا نوالہ منہ میں ہوتا ہے یا جو کھانا چبایا جارہا ہوتا ہے، اس دوران سحری کا ٹائم ختم ہوگیا تو کیا وہ نوالہ منہ سے نکالنا ہوگا؟ یا صرف اگلا نوالہ اب نہیں کھاسکتے ؟

جواب

سحری کا وقت صبحِ  صادق تک ہوتا ہے اور صبح صادق کے ساتھ سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے،  اس کے بعد   کھانا پینا جائز نہیں،لہذا سحری کے وقت کے ختم ہونے کے بعد اگر منہ میں نوالہ ہے تو وہ نکالناضروری ہے ،احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ اوقاتِ نماز کے نقشوں میں صبح صادق کا جو وقت درج ہوتا ہے ،اس سے دو منٹ پہلے سحری بند کرلینی چاہیے۔

قرآن مجید میں ہے :

﴿ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ ﴾ [البقرة:187]

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200228
تاریخ17-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں