بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں انجیکشن لگانے کا حکم

سوال

كياانجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟

جواب

روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛  کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ اصلی راستوں (Opening)سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن  میں  جاتی ہے، جب کہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے  کہ بدن کے اصلی راستوں سے کوئی چیز معدے یا دماغ تک پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں ہوتا، یہی حکم  ڈرپ کا بھی ہے، یعنی روزے کی حالت میں ڈرپ لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

فتاوی رحیمیہ میں ہے: (7/264):

"دوا بذریعہ انجکشن رگوں میں پہنچنا مفسدِ  صوم نہیں ہے،فسادِ  صوم کے ليے مفطر کا جوف دماغ یا معدہ میں پہنچنا ضروری ہے اور وہ یہاں پایا نہیں جاتا ، إن العبرۃ للوصول إلی الجوف و الدماغ.  دیکھیے  سوراخِ ذکر میں دوا ٹپکانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا؛ اس لیے کہ گو د وا  اندرونِ  بدن گئی،  لیکن مثانہ سے آگے (معدہ میں ) نہیں پہنچتی ۔"

(عالمگیری ج ۱ ص ۲۰۴ الباب الرابع فیما یفسد وما لا یفسد)   

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200187
تاریخ15-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں