بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں طاقت کا انجیکشن لگوانا

سوال

روزہ  کی حالت   میں  طاقت حاصل کرنے کی غرض سے انجکشن لگوانا کیسا ہے؟  کیا یہ مفسدِ  صوم ہے؟

جواب

انجیکش خواہ جلد  میں لگایا جائے یا نس میں بہر صورت اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا، البتہ بلا ضرورت،  روزے کا احساس کم کرنے کی خاطر طاقت کا  انجیکشن یا ڈرپ لگانا مکروہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لأنه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، و المفطر إنما هو الداخل من المنافذ للإتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لايفطر، و إنما كره الإمام".  (٢ / ٣٩٥)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و ما يدخل من مسام البدن من الدهن لايفطر". ( ١ / ٢٠٣)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200159
تاریخ15-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں