بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا تراویح کی جماعت کرانا

سوال

میری سسرالی بہن حافظہ ہے ۔کیا میں اور میری والدہ اس کےساتھ تراویح ادا کرسکتی ہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ عورتوں کا اس طرح جماعت کرنا کہ عورت امام ہو اور مقتدی بھی عورتیں ہوں مکروہِ  تحریمی ہے؛  لہذا سائلہ  کو چاہیے کہ اپنی سسرالی بہن اور والدہ کے ساتھ تراویح کی جماعت  کرنے کے بجائے انفرادی  طور پر ہی تراویح  ادا کرے، اور جتنا قرآن یاد ہے اس کو  تراویح  میں پڑھ   لیا جائے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(و) يكره تحريمًا (جماعة النساء) ولو التراويح»

قوله: ويكره تحريما) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضًا أو نفلًا."

(کتاب الصلاۃ باب الامامۃ ج نمبر ۱ ص نمبر ۵۶۵،ایچ ایم سعید)

فقط اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200154
تاریخ14-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں