بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا شروع رمضان کے روزوں کا قضا ہونا آخری عشرے کے اعتکاف کے لیے مانع ہے؟

سوال

اگر کوئی ماہ رمضان کے شروع کے روزے نہ رکھ سکے جب کہ اعتکاف کی نیت بھی ہو تو کیا وہ شخص اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے؟  یا لازم ہے کہ شروع کے دو عشرے میں روزے مکمل رکھے ہوں، تب ہی اعتکاف ہو سکتا ہے؟

جواب

اعتکاف کے درست ہونے کے لیے  یہ ضروری نہیں  ہے کہ معتکف نے شروع رمضان سے روزے مسلسل رکھے ہوں،  اس لیے  اگر کسی شخص کے  شروع رمضان کے کچھ  روزے کسی عذر کی وجہ سے قضا  ہو گئے ہوں تو  یہ آخری عشرے کے اعتکاف کے درست ہونے کے لیے  مانع نہیں ہے،  ایسا آدمی اعتکاف میں بیٹھ سکتا ہے۔البتہ  مسنون اعتکاف کے دنوں میں روزہ رکھنا  ضروری ہوگا ۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 152):

"(وهو) ثلاثة أقسام (واجب بالنذر) بلسانه وبالشروع.

وبالتعليق ذكره ابن الكمال (وسنة مؤكدة في العشر الاخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الانكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الازمنة) هو بمعنى غير المؤكدة.

(وشرط الصوم) لصحة (الاول) اتفاقًا (فقط) على المذهب."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200131
تاریخ14-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں