بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں غسل واجب میں تاخیر کرنا

سوال

کیا سحری کے وقت غسل کرنے کے بجائے  تیمم کرنا اور دن  میں غسل کرنا ٹھیک ہے؟  اور روزہ پہ کیا اثر  پڑے گا؟

جواب

سحری کے وقت اگر غسل واجب  ہو اور سحری کے وقت میں گنجائش ہو تو  بہتر ہے کہ صبح صادق سے پہلے ہی غسل کرلے، اگر سحری  کا وقت تنگ ہو تو ہاتھ دھوکر، کلی کرکے سحری کرلے، البتہ سورج طلوع ہونے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہوگا؛ تاکہ نماز قضا نہ ہوجائے، اگر  بلاعذر سورج طلوع ہونے کے بعد غسل کیا تو فجر کی نماز قضا کرنے کا گناہ ہوگا،   تیمم کرکے عام حالات میں نماز ادا کرنا جائز نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرچہ غسل میں تاخیر کرنے کی وجہ سے روزہ فاسد  نہ ہوگا، البتہ جان بوجھ کر فجر قضا کرنے کا گناہ ہوگا۔  فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200114
تاریخ14-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں