بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’حِباء‘‘ یا ’’حِبا‘‘ نام کا معنی اور رکھنے کا حکم

سوال

حبا نام رکھنا اسلام میں کیسا ہے؟

جواب

’’حِباء‘‘ (’ح‘ کے زیر اور آخر میں ہمزہ کے ساتھ) عربی زبان میں تحفہ کو کہتے ہیں، اس لفظ کو اردو میں ’’حِبا‘‘ (بغیر ’ہمزہ‘ کے) بھی لکھ سکتے ہیں، معنیٰ کے اعتبار سے یہ نام رکھنا درست ہے۔  البتہ  بچی کا نام صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر رکھنا زیادہ پسندیدہ ہے۔

تاج العروس (37/ 393):

’’ (و) حَبَا (فلَانا) حَبْواً} وحَبْوةً: (أَعْطاهُ بِلا جَزاءٍ وَلَا مَنَ، أَو عامٌّ) ؛ وَمِنْه حدِيثُ صلاةِ التّسْبيح: (أَلا أَمْنَحُكَ أَلا {أَحْبُوكَ) . (والاسمُ} الحِباءُ، ككِتابٍ.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200108
تاریخ14-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں