بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ادائیگی قرض کے لیے جمع شدہ رقم پر زکوۃ کا حکم

سوال

ایک آدمی نے قرض ادا کرنے کے لیے رقم جمع کی ہے جو کہ نصابِ  زکوۃ  سے زیادہ ہے،  اور سال بھی اس پر گزر گیا ہے،  تو کیا قرض ادا کرنے سے پہلے یہ آدمی اس کی زکوۃ ادا کرے گا ؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ شخص کے پاس ادائیگی قرض کے لیے جمع شدہ رقم  کے علاوہ اتنی رقم  یا سونا یا چاندی نہیں ہے جو  ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتو  قرض کے  لیے جمع شدہ رقم پر  زکات نہیں ہے۔

بدائع الصنائع  فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"و منها أن لایکون علیه دین مطالب به من جهة العباد عندنا فإن کان، فإنه یمنع وجوب الزکاة بقدره حالًا کان أو مؤجلًا".

(کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:6، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200064
تاریخ13-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں