بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا حافظہ لڑکی اپنے گھر کی عورتوں کو تراویح پڑھا سکتی ہے؟

سوال

 کیا حافظہ لڑکی اپنے گھر کی عورتوں کو تراویح پڑھا سکتی ہے؟

جواب

تراویح یا کسی بھی نماز میں عورتوں کی تنہا جماعت مکروہ تحریمی ہے؛  لہٰذا حافظہ لڑکی  کو  بھی چاہیے کہ  اپنی تراویح  کی نماز  تنہا پڑھتی  رہے،  یہی مناسب اور بہتر ہے۔

الدر المختار میں ہے:

"(و) يكره تحريمًا (جماعة النساء) ولو في التراويح في غير صلاة جنازة ."

(الدر المختار: كتاب الصلاة، باب الإمامة (1/ 565)،ط. دار الفكر، سنة النشر 1386، مكان النشر بيروت)

فقط، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144209200011
تاریخ13-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں