بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی کے ساتھ عمرہ کرنا

سوال

کیا رضاعی بھائی کے ساتھ عورت عمرہ کر سکتی ہے اور وہاں دونوں ہوٹل کے ایک کمرے میں قیام کر سکتے ہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں عورت اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ حج یا عمرہ پر جا سکتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور اسی طرح ایک کمرہ میں رہنا بھی جائز ہے کیوں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے محرم ہیں البتہ ایک اگر فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر سگے بھائی کے ساتھ بھی تنہائی جائز نہیں چہ جائے کہ رضاعی بھائی کے ساتھ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 464):

(و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 339):

والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة.

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201517
تاریخ12-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں