بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے لیے وقف شدہ ڈولہ غیر مسلم کو استعمال کے لیے دینا

سوال

اگر غیر مسلم لوگ غیر مسلم میت کے لیے  مسجد کے ڈولہ کو طلب کریں تو ان کو ڈولہ دیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مسجد میں وقف شدہ چیز  چوں کہ عام طور پرمسلمانوں کے لیے وقف کی جاتی ہے؛  لہذا غیر مسلم کو مسجد کا ڈولہ استعمال  کے  لیے دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به‘‘.

  (فتاوی شامی، 4/433، کتاب الوقف، ط: سعید)

       فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناءً ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعاً لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه، والأصح أنه لايجوز، كذا في الغياثية‘‘.

(2 / 362، الباب الثانی فیما یجوز وقفہ، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201511
تاریخ12-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں