بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شرعی پردہ کرنے والی عورت کے بارے میں ایک فضیلت کی تحقیق

سوال

جو عورت دنیا میں شرعی پردہ کرے گی تو کیا جنت میں اللہ تعالی اس سے ملنے خود آئیں گے اس بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

 شرعی پردہ کرنا بلاشبہہ  لائقِ مبارک باد ہے، پردہ  عورت کی عزت کا ضامن ہے، ہر عورت کے لیے پردہ کرنا نہایت ضروری ہے، خواہ دنیا والے اس سے خوش ہوں یا ناخوش، قرآنِ مجید میں عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سوائے ان حصوں کے جن کا اظہار ناگزیر ہے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔  علاوہ ازیں سورہٴ  احزاب  میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکالیا کریں یعنی گھونگھٹ نکالیں، چہروں، سینوں  اور پورے جسم کو  چھپائیں۔

{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذلِكَ أَزْكى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِما يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِناتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْها وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ } (النور آیت نمبر 30-31)

{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذلِكَ أَدْنى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً}  (الاحزاب آیت نمبر 59)

لہذا شرعی پردہ کرنا بہت ہی مبارک عمل اور اللہ کا حکم ہے۔  باقی یہ بات کہ ’’ جو عورت دنیا میں شرعی پردہ کرے گی تو جنت میں اللہ تعالی اس سے خود ملنے آئیں گے ‘‘ یہ ہمیں  نہیں ملی۔ البتہ  حکمِ خداوندی کی تعمیل یقینًا رضاءِ خداوندی اور جنت  میں  بیش بہا نعمتیں  میسر  ہوں گی۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201509
تاریخ12-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں