بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حاجات کی تکمیل کے لیے دعا

سوال

کوئی ایسی دعا بتائیں کہ اس کے  پڑھنے سے جو بھی حاجت ہو ،جو بھی دعا ہو وہ قبول ہو جائے۔

جواب

اپنی جائز حاجات اور مرادوں کے حصول کے لیے  اور دعاؤں کی قبولیت کے لیے اللہ کی طرف رجوع کریں،اپنے آپ کو مایوسی سے بچائیں، فرائض کی پابندی کریں، گناہوں سے بچیں اور  کثرت سے توبہ واستغفار کریں، اور اس کے ساتھ حدیث میں بتائے ہوئے درج ذیل طریقہ پر عمل کریں۔ حدیث ِ  مبارك میں ہے کہ :

"جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے کوئی خاص حاجت یا اس کے کسی بندے سے کوئی خاص کام پیش آجائے تو اس کو چاہیے کہ خوب اچھی طرح  وضو کرے، پھر دو رکعت (اپنی حاجت کی نیت سے) نمازِ حاجت پڑھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور رسول اللہﷺ پرصلاۃ وسلام بھیجے (یعنی درود شریف پڑھے) اس کے بعد یہ دعا کرے:

’’لَا اِلٰـهَ اِلَّا اللّٰهُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، اَسْئَلُكَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْعِصْمَةَ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ، وَالْغَنِیْمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَّالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِيْ ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَه وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَه وَلَا حَاجَةً هيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَیْتَهَا یَا أَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ‘‘.

ان شاء اللہ اس سے جائز حاجات پوری ہوجائیں گی۔

نيز  نبی کریم ﷺ  کرب اور پریشانی کے وقت درج ذیل دعا فرماتے تھے، اسے دعاءِ کرب کہتے ہیں، اسے پڑھ کر دعا مانگنے سے بھی امید ہے کہ ان شاء اللہ حاجت براری ہوگی:

’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَ رَبُّ الْأَرْضِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ‘‘.

ترجمہ : ”اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔“

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201504
تاریخ12-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں