بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملزم کے خلاف گواہ ہوں تو ملزم کا قرآن پر ہاتھ رکھ کر انکار کرنے کی حیثیت

سوال

قرآن پر  ہاتھ  رکھ کر کوئی بات کہنے کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟ اگر کوئی ملزم قرآن پر  ہاتھ  رکھ کر اپنے جرم کا انکار کرے اور دوسری طرف گواہ اس ملزم کے جرم کی گواہی دے تو کس کی بات کا اعتبار کیا جائے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کسی ملزم کے جرم کے خلاف شرعی بینہ بصورتِ گواہ  ہوں تو گواہوں کی گواہی کا اعتبار ہوگا۔ باقی یہ بات کہ کتنے گواہ ضروری ہیں ؟ تو یہ اس وضاحت پر موقوف ہے کہ کس نوعیت کا جرم ثابت کیا جارہا ہے۔

النتف في الفتاوى للسغدي (2 / 786):

"البينة على المدعي، قال النبي صلى الله عليه وسلم: لو ترك الناس على دعواهم لاهلك بعضهم بعضًا ولكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201460
تاریخ11-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں