بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانچ تولہ سونا اور دو لاکھ نقدی پر زکات کا حکم

سوال

 اگر کسی شخص کے پاس پانچ تولہ سونا ہو اور اس کے ساتھ  2 دولاکھ نقدی بھی ہو تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب ہے کہ نہیں؟  اگر واجب ہے تو اس پر کتنی زکوۃ  آئے گی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ شخص  چوں کہ صاحبِ  نصاب  ہے، لہذا زکات کا سال مکمل ہونے  پر پانچ تولہ سونے کی قیمت معلوم کرکے  اس میں دو لاکھ  نقدی جمع کرلے، اور دونوں کے مجموعہ  کو چالیس سے تقسیم کردے، اور حاصل جواب یعنی ڈھائی فیصد بطور زکات  ادا کردے تو اس کی زکات ادا ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201451
تاریخ11-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں