بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سید حضرات کے لیے ہدیہ جمع کرکے جو بچ جائے، اسے گھر والوں پر خرچ کرنا

سوال

سیدوں کے لیے ہدیہ کے طور پر دوست احباب کی مدد سے کچھ رقم اکھٹی کی گئی اور اس رقم سے سید فیملیز  کی مدد کر دی گئی۔کچھ رقم باقی موجود ہے،  کیا اس باقی ماندہ رقم کو اہلِ بیت کو دینا جائز ہے،  جب کہ کوئی  ضرورت  مند  سید  بھی معلومات میں نہیں ہیں ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جن کے نام پر  ہدیہ لیا ہے (سید حضرات)، ان کو ہی دینا لازم ہے، مزید سید معلوم نہیں ہیں تو جنہیں پہلے دیا گیا، انہیں کو دے دیں۔ البتہ دینے والوں کی اجازت سے اہلِ بیت (اپنے گھر والوں) کو دینا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4 / 366):

 أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة، ووجوب العمل به.

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201413
تاریخ11-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں