بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بجلی کا میٹر لگانے والے کو خوشی سے پیسے دینا

سوال

بجلی کا میٹر لگانے والے کو خوشی سے  پیسے دے سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر بجلی کا میٹر قانون کے مطابق اور اس کی متعین کردہ فیس وغیرہ کی ادائیگی کے بعد لگایا گیا ہے اور میٹر لگانے والے سرکاری ملازم کو محض خوشی کی وجہ سے کوئی رقم دی جائے تو ایسا کرنا درست ہے، لیکن اگر  کسی بھی مرحلے میں  بے ضابطگی  کی وجہ سے میٹر لگانے والے سرکاری ملازم کو  پیسے دیے جائیں  یا اس کی وجہ سے آئندہ خلافِ ضابطہ کوئی کام کروانا مقصود ہو تو   یہ  رشوت  میں  شامل  ہے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (22/ 220):

"والرشوة في الاصطلاح: ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144208201344
تاریخ10-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں