بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ڈائیلیسیز کروانے کا حکم

سوال

 روزے کی حالت میں ڈائیلائیسز کرواسکتے ہیں؟ مطلب اس سے روزے پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا ؟

جواب

ڈائیلیسیز (خون کی صفائی) کروانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے،کیوں کہ گردے کی  کمزوری وغیرہ اعذار کی بنا  پر مشین کے ذریعہ خون کی صفائی کروانے سے کوئی  چیز معتاد راستے سے جوف معدہ یا دماغ میں داخل نہیں ہوتی، اس لیے روزہ کی حالت میں ڈائیلیسیز کروانا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لأنه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، و المفطر إنما هو الداخل من المنافذ للإتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لايفطر، و إنما كره الإمام". (٢ / ٣٩٥)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و ما يدخل من مسام البدن من الدهن لايفطر". ( ١ / ٢٠٣) 

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201320
تاریخ08-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں