بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعاءِ قنوت بھولنے کا حکم

سوال

اگر وتر نماز میں دعائے  قنوت  پڑھنا بھول  گئے اور  سجدہ سہو کر لیا تو نماز درست  ہو جائے گی؟

جواب

وتر کی نماز میں دعاءِ  قنوت  بھولنے  کی صورت میں سجدہ سہو کرنے سے  نماز ادا  ہوجائے  گی۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

«(ومنها القنوت) فإذا تركه يجب عليه السهو، وتركه يتحقق برفع رأسه من الركوع ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو؛ ولأنها بمنزلة تكبيرات العيد، كذا في التبيين.»

(کتاب الصلاۃ باب سجدۃ السھو ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۲۸،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201282
تاریخ07-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں