بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا حکم

سوال

 غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کا حکم؟

جواب

غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانورمردار اور حرام ہے، اس کا کھانا جائز نہیں۔

شرح مختصر الطحاوی میں ہے:

"قال: (ومن سمى على ذبيحته باسم المسيح: لم تؤكل ذبيحته) وذلك لقول الله تعالى:} حرمت عليكم الميتة والدم {إلى قوله:} وما أهل لغير الله به {وهذا مما قد أهل به لغير الله."

(شرح مختصر الطحاوي: كتاب الصيدوالذبائح (7/ 242)،ط. دار البشائر الإسلامية - ودار السراج، الطبعة: الأولى 1431 هـ - 2010 م)

فقط، والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201274
تاریخ07-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں