بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عشر کے مصارف

سوال

عشر کن کن پر جائز ہے؟ مثال کے طور پر غریب بہن یا بھائی کو دے سکتے  ہیں؟

جواب

عشر  کا  مصرف  وہی ہے جو  زکات  کا مصرف ہے، یعنی جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر  ضروریاتِ اصلیہ  اور استعمال سے زائد مال یا سامان نہیں ہے، اور وہ سید/ ہاشمی نہیں ہے، ایسے شخص کو عشر دیا جا سکتا ہے،خواہ وہ رشتہ دار ہوں، بلکہ  رشتہ دار اگر مستحق ہو تو اسے عشر/ زکات/ صدقہ دینے میں دوہرا ثواب ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 193):

"أن العشر مصرفه مصرف الزكاة لأنه زكاة الخارج".

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201259
تاریخ07-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں