سرکاری نوکری کو بیچنے اور عوض لینے کا حکم
سوال
ایک صاحب سرکاری نوکر ہے، اب وہ اس نوکری کو بیچنا چاہتا ہے، آیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی اس کا عوض لینا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر جواز کی کوئی صورت ہو تو تحریر فرمائیں!
جواب
سرکاری نوکری کوئی مال نہیں ہے، بلکہ فقط ایک حق ہے، اس لیے سرکاری نوکری کو بیچنے کی حیثیت فقط ایک حق کو بیچنے کی ہے اور حقِ مجرد کی بیع شرعًا جائز نہیں ہے، لہٰذا سرکاری نوکری کا عوض لے کر دوسرے کو بیچنا شرعًا جائز نہیں ہے۔
الاشباہ والنظائر میں ہے :
’’الحقوق المجردة لايجوز الاعتياض عنها‘‘. (1/212)
وفي حاشية ابن عابدين :
"وأفتى في الخيرية أيضًا بأنه لو فرغ عن الوظيفة بمال فللمفروغ له الرجوع بالمال لأنه اعتياض عن حق مجرد وهو لايجوز صرحوا به قاطبةً، قال: ومن أفتى بخلافه فقد أفتى بخلاف المذهب لبنائه على اعتبار العرف الخاص وهو خلاف المذهب والمسألة شهيرة وقد وقع فيها للمتأخرين رسائل واتباع الجادة أولى والله أعلم."
(رد المحتار4/ 383ط:سعيد)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

