بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفع کمانے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکات کے وجوب کا حکم

سوال

میرا ایک گھر ہے، اب میں نے ایک پلاٹ لیا ہے واپس بیچنے کے لیے، لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں، کیا مجھ پر زکات واجب ہے؟

جواب

آپ نے جو پلاٹ بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے لیا ہے  وہ مالِ  تجارت ہے؛ اس لیے زکات کا سال پورا ہونے  کی صورت میں آپ پر اس کی قیمت  کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہوگی۔رقم اس وقت موجود نہ ہو تو تو زکات کا حساب کرکے نوٹ کرلیجیے، اور جیسے جیسے رقم آتی رہے آئندہ سال آنے سے پہلے پہلے زکات ضرور ادا کردیں۔

باقی جو آپ کا گھر ہے اس کی تفصیل آپ نے نہیں بتائی کہ وہ رہائشی ہے یا تجارتی غرض سے خریدا ہوا ہے،  اگر وہ گھر تجارتی غرض سے نہیں خریدا گیا تو اس پر زکات لازم نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ بھی تجارتی غرض سے نفع کمانے کی نیت سے خریدا ہوا ہے، تو اس پر بھی زکات لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 267):

"(أو نية التجارة) في العروض".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201238
تاریخ07-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں