بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پیدائش سے پہلے جنس معلوم کرنے کا حکم

سوال

کیا پیدائش سے پہلے الٹراساونڈ کے ذریعہ جنس معلوم کرنا گناہ ہے یا نہیں؟ ہم صرف شاپنگ کی وجہ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں ،بیٹا ہو یا بیٹی دونوں اللہ کی نعمت ہیں!

جواب

دورانِ حمل   بچے  کی  جنس معلوم کرنے کی جستجوکرنا کوئی  پسندیدہ عمل نہیں ہے،  بچے کی جنس جو بھی ہو  وہ دنیا میں آکر ہی رہے گا؛  لہذااگر جنس معلوم کرنے کے لیےالٹرا ساؤنڈ  کرایا جائے اور اس کے لیے ستر کھولنا پڑے تو یہ ناجائز عمل ہے، اس مقصد کے لیے ستر کھولنا کہ آلہ  رکھ کر جنس معلوم کی جائے،  یہ جائز عمل نہیں ہے، اور بچے کے سامان کی خریداری کا عذر اس کا جواز فراہم نہیں کرسکتا۔

البتہ اگر کسی طبی ضرورت کے لیے  الٹرا ساؤنڈ کرایا گیا ہو، اور اسی  کے دوران بچہ کی جنس بھی معلوم کرلی جائے تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ الٹرا ساؤنڈ کرنے والی عورت ہو، اور بقدرِ ضرورت ستر کھولے اور کسی مرد کی نگاہ نہ پڑے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201225
تاریخ06-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں