بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے غسل میں سرکے بال دھونا

سوال

کیا عورت کو غسلِ  جنابت میں   لٹکنے  والے بالوں کا  تر کرنا ضروی ہے یا اگر صرف بالوں کی  جڑوں تک پانی پہنچا لے تو غسل ہو جائے گا ؟

جواب

اگر عورت کے سرکے بال گندھے ہوئے ہوں تو  صرف بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، مینڈھیاں کھولنا ضروری نہیں۔ البتہ اگر عورت کے بال کھلے ہوئے ہوں تو پورے بالوں کا دھونا ضروری ہے یعنی لٹکنے والے پورے بالوں  کا دھونا ضروری ہے، اگر کچھ حصہ خشک رہ جائے تو غسل درست نہیں ہوگا۔

البحرالرائق میں ہے:

"(و كفى بل أصل ضفيرتها) أي شعر المرأة المضفور للحرج أما المنقوض فيفرض غسل كله اتفاقًا."

(كتاب الطهارة/ج:1/ص:54/ط:دارالمعرفة)

فقط و الله  اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201201
تاریخ06-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں