بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ، ایک بیٹے اور سات بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم

سوال

والدہ صاحبہ کا انتقال ہواہے، والد صاحب کا پہلے سے انتقال ہوچکا ہے۔ ایک ہی بھائی ہوں اور سات بہنیں ہیں،  نانی اماں حیات ہیں اور تین ماموں اور دو خالہ ہیں،  برائے مہربانی واراثت کی تقسیم میں ہر ایک کا حصہ بتادیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  سائل کی والدہ مرحومہ کی جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ  پہلےمرحومہ کے  حقوقِ متقدمہ  (یعنی مرحومہ کے  ذمہ کسی کا کوئی قرض ہو تو  اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال میں سے  ) ادا کرنے کے بعد    باقی کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہکو   54/ حصوں میں تقسیم کر  کے مرحومہ  کی والدہ  (سائل کی نانی) کو 9 /حصے، اور  مرحومہ   کے بیٹے  (سائل) کو10 /حصے، اور مرحومہ  کی ہر ایک  بیٹی  (سائل  کی  بہنوں) کو 5/ حصے ملیں  گے۔

باقی سائل کے ماموں اور خالہ وغیرہ   کو کچھ نہیں ملے گا، وہ محروم ہوں گے۔

یعنی: فیصد کے  اعتبار  سے  100 روپے  میں  سے  16.66 فیصد مرحومہ کی والدہ  کو  اور   18.51 فیصد  مرحومہ کے بیٹے (سائل)  کو، اور 9.25 فیصد مرحومہ  ہربیٹی کو ملےگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201179
تاریخ06-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں