بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بانڈ کی انعامی رقم سے گٹر صاف کروانا

سوال

 کیا بانڈ کے انعام کی رقم سے باہر کے گٹر صاف کرائے جاسکتے ہیں؟ لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ تا ہے!

جواب

پرائز بانڈ پر ملنے والی  انعامی رقم کی شرعی حیثیت سود کی ہے، جس کا اصل حکم تو یہ ہے کہ جس سے سود لیا گیا ہو، اسے واپس کردیا جائے، اور اگر واپس کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں ثواب کی نیت کے بغیر مستحقین پر  صدقہ کرنا  واجب ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بانڈ کی انعامی رقم سے گٹر صاف کروانا جائز نہ ہوگا۔

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"والسبيل في الكسب الخبيث التصدق". ( ١٢ / ١٧٢)

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه".(٥ / ٩٩)

فتاوی شامی میں ہے:

لِأَنَّ سَبِيلَ الْكَسْبِ الْخَبِيثِ التَّصَدُّقُ إذَا تَعَذَّرَ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ اهـ.

( كتاب الحضر و الاباحة، فصل في البيع، ٦ / ٣٨٥، ط: دار الفكر)

منحة الخالق لابن العابدين میں ہے:

وَيَجِبُ عَلَيْهِ تَفْرِيغُ ذِمَّتِهِ بِرَدِّهِ إلَى أَرْبَابِهِ إنْ عُلِمُوا وَإِلَّا إلَى الْفُقَرَاءِ."

(منحة الخالق علی البحر، كتاب الزكوة، شروط وجوب الزكوة، ٢ / ٢١١، ط: دار الكتاب الإسلامي )

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201146
تاریخ05-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں