بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پلاٹ پر زکوۃ

سوال

میں نے دو  مہینے  پہلے گورنمنٹ آفس سے قرضہ لیا اور ایک پلاٹ خریدا انویسٹمنٹ کے لیے ،کیا میں اس پر زکوۃ دوں؟

جواب

 جو پراپرٹی انویسمنٹ کی نیت سے لی ہو کہ اس کو فروخت کر کے نفع کمایا جائے گا تو ایسی تمام پراپرٹیز  اگر نصاب کے بقدر ہوں تو   ہر سال ان کی موجودہ ویلیو کا حساب  کر کے کل کا ڈھائی فیصد بطور زکات ادا کرنا شرعًا لازم  ہوگا۔

باقی اگر آفس سے لیا گیا قرض طویل المیعاد نہیں ہے، یعنی کئی سال کی قسطوں میں اس کی ادائیگی نہیں کرنی تو قرض کی باقی ماندہ کل رقم کو مجموعی مالیت سے منہا کرکے حساب کرنا ہوگا۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201096
تاریخ05-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں