بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چچازاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا حکم

سوال

 چاچا زاد بھائی کی بیٹی سے میرا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

چچا زاد بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنا  اگر کوئی  مانعِ  نکاح مثلاً سببِ   رضاعت  و مصاہرت  نہیں ہے تو  جائز ہے، وہ حقیقی بھتیجی کے حکم میں نہیں ہے، نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا،  جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ  ﷺ  کے چچا زاد بھائی تھے۔

أحكام القرآن للجصاص (4/ 262):

"قَوْله تَعَالَى: {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ}. رُوِيَ عَنْ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيِّ وَالسُّدِّيِّ : " أُحِلَّ لَكُمْ مَا دُونَ الْخَمْسِ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ عَلَى وَجْهِ النِّكَاحِ " . وَقَالَ عَطَاءٌ : " أُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ مِنْ أَقَارِبِكُمْ " . وَقَالَ قَتَادَةُ : {مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} : " مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ " . وَقِيلَ : " مَا وَرَاءِ ذَوَاتِ الْمَحَارِمِ وَمَا وَرَاءِ الزِّيَادَةِ عَلَى الْأَرْبَعِ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ نِكَاحًا أَوْ مِلْكَ يَمِينٍ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ عَامٌّ فِيمَا عَدَا الْمُحَرَّمَاتِ فِي الْآيَةِ وَفِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201088
تاریخ05-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں