بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنا

سوال

دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنا جائز ہے؟

جواب

خالص دودھ کا کہہ  کر  دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرنا دھوکا دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔  لیکن اگر خالص دودھ کا دعوی نہ ہو، اور گاہک کو بتادیا جائے، یا   عرف کے مطابق پانی کا ملاہوا ہونا معروف ہو  اور گاہک اس کو بخوشی خریدے، تو شرعاً اس کی ممانعت نہیں ہے، اور اس طرح کے کاروبار میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا".

(سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201072
تاریخ05-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں