بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے آگے سے کوئی چیز اٹھانا

سوال

کیا نمازی کے آگے سے کوئی چیز لے سکتے ہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص نمازی کے آگے سے گزرے بغیر محض اپنا ہاتھ بڑھا کر رکھی ہوئی چیز اٹھاتا ہے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور ایسا کرنے والا گناہ گار بھی نہ ہو گا،تاہم اس میں اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ نمازی کو تشویش نہ ہو، البتہ نمازی کے آگے سے گزرنا بڑا گناہ ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔

الحجة على أهل المدينة (1/ 218) :

باب المرور بين يدي المصلي 

 قال أبو حنيفة: لاينبغي للرجل ان يمر بين يدي الرجل وهو يصلي لا في تطوع ولا في فريضة ولا إذا قامت الصلاة فدخل الناس في الصلاة فإن مر رجل بين يدي رجل و هو يصلي فليدرأه ما استطاع فإن أبى إلا أن يقاتله فليدعه أن يمر."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201043
تاریخ04-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں