بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کتنی رقم پر زکوۃ فرض ہے؟

سوال

زکوٰۃ کتنی رقم پر فرض ہے؟

جواب

اگر کسی شخص کی ملکیت میں سونا، چاندی یا مال تجارت نہیں،بلکہ صرف نقد رقم ہے، تو اس صورت میں اگر وہ نقد رقم  ساڑھے باون چاندی کی مالیت  تک پہنچ جاتی ہے، اور یہ نقد رقم محفوظ ہے اور اس شخص کی ضروریات سے فارغ ہے، تو سال  گزر جانے پرمجموعی رقم پرزکات  لازم ہوگی۔

نیز زکات  کے واجب ہونے سے متعلق عام اصول یہ ہے کہ :

جوشخص مسلمان، عاقل و بالغ ،آزاد ہو، نصاب کے برابر مال رکھتا ہو، ما ل ضروریات اصلیہ سے زائد ہو اور اس مال پر پورا سال گزر جائے تو اس پر زکات  فرض ہے، نصاب سے مراد یہ ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہویا دونوں کی مالیت کے برابریا دونوں میں سے ایک کی مالیت کے برابرنقدی ہو یا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو۔ 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201042
تاریخ04-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں