بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت کی تنگی کی وجہ سے وتر میں ’’اللّٰهم إنا نستعينك...‘‘ الخ کی جگہ کوئی دوسری دعا پڑھنے کا حکم

سوال

اگر وقت تنگ ہو اور جلدی جلدی نماز پڑھنی ہو تو نماز وتر میں کم سے کم دعائے قنوت کیسے پڑھیں؟

جواب

واضح رہے کہ وتر میں  قنوت واجب ہے، لیکن اس کے لیے  مخصوص دعا اس طور پر متعین نہیں کہ اگر وہ نہ پڑھی تو وتر ادا نہ ہو، البتہ  ’’اللّٰهم  إنا نستعينك...‘‘ الخ   پڑھنا اولی ہے، بعض  کتابوں میں قنوتِ وتر میں یہ دعا پڑھنا سنت قرار دیا ہے؛  لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر وقت کی تنگی کی وجہ سے    ’’اللّٰهم  إنا نستعينك...‘‘ الخ مکمل پڑھنے سے وتر قضا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس دعا کے بجائے   (ربنا آتِنَا فِيْ الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِيْ الآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ) یا تین بار (اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلي)   بھی پڑھی جاسکتی ہے،  اس سے بھی واجب ادا ہوجائے گا۔ 

 فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وليس في القنوت دعاء مؤقت، كذا في التبيين. و الأولي أن يقرأ : اللّهم إنا نستعينك و يقرأ بعده اللّهم اهدنا فيمن هديت. و من لم يحسن القنوت يقول: "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة و قنا غذاب النار"، كذا في المحيط. أو يقول: اللّهم اغفرلنا، و يكرر ذلك ثلاثاً، وهو اختيار أبي الليث، كذا في السراجية."

(الباب الثامن في صلاة الوتر، ١/ ١١١، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208201000
تاریخ04-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں