بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم ﷺ کی کنیت پر نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی کنیت پہ نام رکھا جا سکتا ہے؟

جواب

نبی کریم ﷺ کی کنیت پر نام رکھنا جائز ہونے کے ساتھ  بابرکت بھی ہے۔ 

نیز یہ بھی واضح ہو کہ بعض احادیث کے مطابق جو نبی کریم ﷺ نے اپنی کنیت پر نام رکھنے کی ممانعت فرمائی تھی، اس کی تشریح میں شارحینِ حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ ممانعت آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے ساتھ خاص تھی تاکہ آپ ﷺ اور کسی اور کو پکارنے میں التباس اور آپ ﷺ کو تکلیف نہ ہو۔

"سمّوا بإسمي، ولا تكنوا بكنيتي".

(صحیح مسلم،(3/1682) کتاب الاداب، ط: دار احیاء التراث العربی)

یعنی میرے نام پر نام رکھو، البتہ میری کنیت اختیار نہ کرو۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7 / 2995):

"وقيل: النهي مخصوص بحياته لئلايلتبس خطابه بخطاب غيره، وهذا هو الصحيح لما تقدم من سبب ورود النهي في الحديث المتفق عليه بالصريح."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200969
تاریخ03-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں