بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بکرے سے جفتی کرانے پر اجرت لینے کا حکم

سوال

کیا بکرے سے جفتی کرانے کے پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ کسی بھی نر جانور سے جفتی کرانے پر اجرت لینا اور دینا جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں ایسے کام پر اجرت لینے، دینے کی ممانعت آئی ہے، البتہ بغیراجرت لیے ہوئے نسل بڑھانے کی غرض سے جفتی کرانا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(لاتصح الإجارة لعسب التيس) وهو نزوه على الإناث."

(قوله: لاتصح الإجارة لعسب التيس)؛ لأنه عمل لايقدر عليه وهو الإحبال." 

(كتاب الاجارة، باب الاجارة الفاسدة، ج:6، ص:55، ط:ايج ايم سعيد)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

جانور سے نسل بڑھانے کے لیے جفتی کرواکے مالک کو چارہ وغیرہ کے لیے رقم دینا

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200965
تاریخ03-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں