بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹینٹ سروس کاروبار میں سامان استعمال کرنے کے بعد معاوضہ نہ دینا

سوال

ٹینٹ سروس کے کاروبار میں  گاہک  کا سامان استعمال کرنے کے بعد طے شدہ بل کا نہ ادا کرنا دینِ  اسلام میں کیسا فعل ہے ؟

جواب

بصورتِ مسئولہ ٹینٹ وغیرہ  کرائے  پر  حاصل کرنے کی صورت میں معاہدہ کے مطابق کرایہ ادا کرنا شرعاً  لازم ہے، کرایہ   ادا نہ کرنا یا اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول  جائز نہیں ہے ۔

حدیث شریف میں ہے:

"قال رسول الله صلی الله علیه و سلم: ألا لاتظلموا، ألا لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه".(مشکوٰۃ، ج:1، ص:255، ط:قدیمی)

ترجمہ: خبردار اے مسلمانو! ظلم نہ کیا کرو، اور یاد رکھو کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر دوسرے شخص کے لیے حلال نہیں ہے۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200952
تاریخ03-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں