بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نر جانور کی نذر میں مادہ جانور ذبح کرنا

سوال

نر   جانور   کی  منت  میں  مادہ  جانور   ذبح  کیا  جاسکتا ہے؟ وکذا بالعکس؟ 

جواب

فقہاءِ  کرام  نے صراحت  فرمائی ہے کہ اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں اونٹ ذبح کروں گا، پھر وہ سات بکریاں ذبح کر دے تو ایسا کرنا جائز ہے  اور  ایسا کرنے  سے  اُس کی نذر پوری ہو جائے گی، لہذا اگر کسی شخص نے نر جانور کی نذر مانی ہو تو مادہ جانور کو ذبح کرنے سے بھی اُس کی نذر پوری ہو جائے گی،  وکذا بالعکس۔

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 548):

"و لو قال: لله علي أن أذبح جزورًا و أتصدق بلحمه و ذبح مكانه سبع شياه جاز."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200937
تاریخ01-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں