بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں نکاح اور رخصتی کا حکم

سوال

کیا رمضان المبارک میں نکاح اور رخصتی کر سکتے ہیں؟

جواب

بعض لوگوں میں یہ بات معروف ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں نکاح نہیں کرنا چاہیے، اس بات  کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ  بالکل بے اصل ہے، رمضان کے مہینے میں نکاح  اور رخصتی کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، رمضان کی راتوں میں میاں بیوی کے تعلق کی اجازت قرآنِ پاک میں صراحتًا منقول ہے، تاہم روزے کی حالت میں نو بیاہتے جوڑے کو اگر خود پر اعتماد نہ ہو تو بوس و کنار سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

ہاں! اگر کوئی اس خیال سے رمضان میں نکاح نہ کرتا ہو کہ نکاح و شادی کی مصروفیات کی وجہ سے رمضان کی عبادات میں خلل واقع  نہ ہو تو اس خیال کی وجہ سے شادی کو مؤخر کرنا درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200926
تاریخ01-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں