بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جعلی ڈگریاں بنانے کا کاروبار کرنا

سوال

اگر کوئی شخص جعلی ڈگریاں بناکر بیچتا ہو تو آیا شرعاً اس کا یہ کاروبار درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جعلی ڈگری بنانا جھوٹ اور دھوکے  پر مشتمل ہونے  کی وجہ سے ناجائز ہے، اس لیے اگر کوئی شخص لوگوں کو جعلی ڈگریاں بنا کر دیتا ہو اور اس کے عوض اُن سے رقم وصول کرتا ہو تو یہ کاروبار اُس کے لیے حلال نہیں ہو گا۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا".

(سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200912
تاریخ01-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں