بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنے مال میں سے صدقہ کی وصیت کرنا

سوال

میت  نے   20000   روپے   جمع کیے  تھے اور  وصیت  کی  تھی  کہ  میرے   مرنے  کے  بعد  یہ  صدقہ  و  خیرات میں  دینا تو اب اس بارے شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کا کل ترکہ اگر بیس ہزار  ہی ہو تو اس  بیس ہزار   کا ایک تہائی یعنی چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ عشاریہ چھ چھ  روپے صدقہ کرنا لازم ہوگا، اور بقیہ  تمام رقم مرحوم کے شرعی ورثاء میں حصصِ شرعیہ کے تناسب سے تقسیم کرنا ضروری ہوگا، کل بیس ہزار  صدقہ کرنے کی شرعاً  اجازت نہ ہوگی، البتہ اگر ان بیس ہزار کے علاوہ بھی ترکہ ہو اور یہ بیس ہزار  کل ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کم بنتے ہوں تو مذکورہ بیس ہزار صدقہ کرنے لازم ہوں گے۔ اور اگر بیس ہزار روپے کل ترکہ کا ایک تہائی سے زیادہ بنتے ہوں تو ایسی صورت میں صرف ایک تہائی رقم صدقہ کی جائے گی، جب کہ بقیہ رقم ورثاء میں تقسیم شرعی کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔  

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 182):

"ثم تصح الوصية للأجنبي بالثلث من غير إجازة الوارث، و لاتجوز بما زاد على الثلث".

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200904
تاریخ01-04-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں