بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صلوۃ التسبیح کی چاروں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کا حکم

سوال

کیا صلاۃ  التسبیح  کی چاروں رکعت میں کوئی بھی سورت پڑھنا ضروری ہے یا پھر پہلی دو رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ  صلاۃ  التسبیح  ایک  نفل نماز  ہے جس کی فضیلت عام نفل نماز سے کہیں زیادہ ہے، تاہم دیگر نوافل کی طرح اس نماز میں بھی  چاروں رکعتوں میں سورۂ  فاتحہ کے بعد  قراءت ( یعنی کوئی سورت  ملانا، یا تین چھوٹی آیتیں ملانا، یا ایک بڑی آیت ملانا) واجب ہے۔

فتاوی عالمگیری  (الفتاوى الهندية )  میں ہے:

"و تجب قراءة الفاتحة و ضمّ السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة، كذا في النهر الفائق، و في جميع ركعات النفل و الوتر، هكذا في البحر الرائق." 

(كتاب الصلوة، الباب الرابع فى صفة الصلوة، الفصل الثانى فى واجبات الصلوة، ج:1، ص:71، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200867
تاریخ31-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں