بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بطورِ مہر رقم کی جگہ سونا دینا

سوال

 نکاح  میں مہر   کی رقم  پچاس ہزار طے  کی گئی تھی، شوہر نے شادی کی رات بیوی کو سونے کی ایک انگوٹھی اور چین جس کی مالیت پچاس ہزار سے بڑھ کر تھی ادا کردی۔ نیز شوہر نے بیوی کو سونے کی انگوٹھی دیتے وقت کہا کہ یہ مہر اور تمہاری سال گرہ کا تحفہ ہے اور  اسی طرح سونے کی چین دیتے وقت یہ کہا کہ یہ مہر اور منہ دکھائی کا تحفہ ہے۔ اس صورت میں مہر کا وجوب ادا ہوگیا ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں شوہر  نے  جو انگوٹھی  اور  چین  مہر کہہ کر اسے دی  ہے وہ مہر ہی شمار ہوگا اور  چوں  کہ اس کا مہر پچاس ہزار ہے اور انگوٹھی اور چین کی قیمت اس سے زیادہ ہے تو اس کا مہر ادا ہوگیا ہے۔

الفتاوى الهندية  (1/ 322):

"ومن بعث إلى امرأته شيئا فقالت: هو هدية وقال هو من المهر فالقول قوله في غير المهيأ للأكل كالشواء واللحم المطبوخ."

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 381):

"أعطاها مالًا وقال: من المهر، و قالت: من النفقة، فالقول للزوج لا أن تقيم هي البينة."

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَالْمَهْرُ يَتَأَكَّدُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ: الدُّخُولُ، وَالْخَلْوَةُ الصَّحِيحَةُ، وَمَوْتُ أَحَدِ الزَّوْجَيْنِ سَوَاءٌ كَانَ مُسَمًّى أَوْ مَهْرَ الْمِثْلِ حَتَّى لَايَسْقُطَ مِنْهُ شَيْءٌ بَعْدَ ذَلِكَ إلَّا بِالْإِبْرَاءِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ."

(الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا يَتَأَكَّدُ بِهِ الْمَهْرُ وَالْمُتْعَةُ، ١ / ٣٠٣ - ٣٠٤، ط: دار الفكر)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200865
تاریخ31-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں