بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مستحب روزوں میں قضا روزے کی نیت کرنا

سوال

اگر کوئی شخص فضیلت والے روزوں میں مثلاً پندرہ شعبان کا روزہ، ان میں قضا کی نیت سے روزہ رکھ سکتا ہے؟ اور اگر رکھ لیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

 قضا  روزوں اور نفلی روزوں کی الگ الگ مستقل حیثیت ہے، ایک ہی روزے میں دونوں روزوں کی نیت کرنا درست نہیں، لہذا  اگر کوئی شخص  مستحب ایام کے روزوں میں ،  رمضان کے روزے کی قضا کی نیت کرتا  ہے  تو وہ صرف قضا ہی کا  شمار ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 197):

"وإذا نوى قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الذخيرة".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200784
تاریخ30-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں