بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے بغیر سلام پھیر دیا

سوال

سجدہ سہو کرنے کے بعد التحیات اور درود پڑھے بغیر فورًا دونوں طرف سلام پھیرنے سے، کیا  نماز ہوجائے گی؟

جواب

سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھنا ضروری ہے،  پس اگر تشہد  پڑھے بغیر سلام پھیر دیا تو نماز اگرچہ صحیح ہوجائے گی، تاہم ایسا شخص ترکِ  واجب کا مرتکب شمار ہوگا، جس کی  وجہ سے اس نماز کے وقت کے اندر اندر نماز کا اعادہ لازم ہوگا، نماز کے وقت میں اعادہ نہ کیا تو نماز ناقص ادا ہوجائے گی۔اس پر توبہ واستغفار کرے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"( و يجب ) ... (سجدتان، و) يجب أيضًا (تشهد وسلام)؛ لأن سجود السهو يرفع التشهد دون القعدة لقوتها.

(قوله: يرفع التشهد) أي قراءته. حتى لو سلم بمجرد رفعه من سجدتي السهو صحت صلاته ويكون تاركًا للواجب، وكذا يرفع السلام إمداد."

(كتاب الصلاة، باب  سجود السهو، ٢ / ٧٨ - ٧٩، ط: دار الفكر)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

"وإعادتها بتركه عمداً" أي ما دام الوقت باقياً وكذا في السهو إن لم يسجد له وإن لم يعدها حتى خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقاً آثماً، وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر، والفرض سقط بالأولى؛ لأن الفرض لايتكرر كما في الدر وغيره، ويندب إعادتها لترك السنة".

(كتاب الصلاة، فصل في بيان واجب الصلاة،  ص: ٢٤٧ - ٢٤٨، ط: دار الكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200742
تاریخ29-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں