بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

راستہ کے دائیں جانب چلنا

سوال

راستہ کی دائیں جانب چلنا سنت ہے؟

جواب

متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ    قابلِ احترام  و باعثِ شرف   اشیاء  اور  تمام مقصودی  چیزوں میں دائیں جانب سے ابتدا  کو پسند کرتے تھے، لہذا اسی بنیاد  پر  راستے  کے  چلنے  کے آداب میں سے  یہ  ہے  کہ دائیں جانب چلا جائے، اور  یہ رسول اللہ  ﷺ  کی  دائیں جانب سے ہر کام شروع کرنے والی  احادیث کے عموم میں داخل ہے۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (3 / 31):

"وقال الشيخ محيي الدين: هذه قاعدة مستمرة في الشرع، وهي أن ما كان من باب التكريم و التشريف: كلبس الثوب والسراويل والخف ودخول المسجد والسواك والاكتحال وتقليم الأظافر وقص الشارب وترجيل الشعر ونتف الابط وحلق الراس والسلام من الصلاة وغسل أعضاء الطهارة والخروج إلى الخلاء والأكل والشرب والمصافحة واستلام الحجر الأسود، وغير ذلك مما هو في معناه، يستحب التيامن فيه؛ وأما ما كان بضده: كدخول الخلاء والخروج من المسجد والامتخاط والاستنجاء وخلع الثوب والسراويل والخف وما أشبه ذلك، فيستحب التياسر فيه، ويقال: حقيقة الشأن ما كان فعلًا مقصودًا، وما يستحب فيه التياسر ليس من الأفعال المقصودة، بل هي إما تروك وإما غير مقصودة".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200720
تاریخ29-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں