بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں شرم گاہ سے پانی نکلنے کے روکنے کے لیے تدبیر کرنا

سوال

دورانِ نماز عورت کو منی  آنے  کی وجہ سے اس کو بند کرنے  کا کیا طریقہ  هوسكتا هے؟

جواب

صورتِ مسئولہ  میں  اگر عورت کو نماز کے دوران  شرمگاہ سے رطوبت نکلنے کا اندیشہ ہو تو  اگر وہ  عورت شرمگاہ  کے داخلی حصے میں روئی وغیرہ   رکھ لے جس سے پانی  باہر نہیں نکل سکے تو جب تک شرمگاہ کے اندر ہی اندر مذی رہے، باہر نہ نکلے  اور روئی وغیرہ کے بیرونی حصہ پر   بھی تری ظاہر نہ ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اور اس کی نماز درست ہوجائے گی،  البتہ اگر تری کی وجہ سے روئی کا باہر والا حصہ بھی تر ہوجائے، یا روئی   شرمگاہ  سے نکل  جائے  اور اس  کے اندرونی حصے میں تری   لگی ہوئی ہو تو اس عورت  کا وضو ٹوٹ جائے گا۔

اور اگر روئی شرمگاہ کے بالکل اندر داخل کردی ہو اور اس کا سرا باہر نہ ہو تو  شرمگاہ کے اندر روئی کے تر ہونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، کیوں کہ اس صورت میں نجاست کا نکلنا نہیں پایا گیا، تاہم اس صورت میں بھی اگر روئی باہر نکالی یا خود نکل گئی  اور وہ تر ہوئی تو اس وقت وضو ٹوٹ جائے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 148):

"(كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لاينقض، وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا".

  فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200711
تاریخ29-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں