بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کی نیت سے جمع کردہ رقم پر زکات کا حکم

سوال

حج کے لیے جمع کیے ہوئے پیسوں پر زکات واجب ہوگی یا نہیں ؟

جواب

جس شخص نے حج کے ارادے سے پیسہ جمع کر رکھا ہو (اور جمع شدہ رقم تنہا یا دیگر اموالِ زکات کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتی ہو) تو  زکات کا سال مکمل ہونے  پر اس رقم پر زکات واجب ہوگی۔

تفصیل کے  لیے دیکھیے:

حج کی نیت سے جمع کی جانے والی رقم پر زکاۃ کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200697
تاریخ28-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں