بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل کے دوران کان میں روئی ہو تو غسل کا کیا حکم ہے؟

سوال

غسلِ واجب میں اگر کسی شخص نے کان میں روئی ٹھونس رکھی ہو تو غسل کا کیا حکم ہے ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کان میں کسی ایسے  زخم کی وجہ سے روئی  لگا رکھی ہو،  جس پر پانی ڈالنا رخم کے  لیے نقصان دہ ہو، تو اس صورت میں، روئی کے اوپر سے مسح کرنا ضروری ہوگا، البتہ اگر کسی عذر کے بغیر  روئی ٹھونس رکھی ہو تو غسل واجب میں اسے  ہٹا کر کان تک پانی پہنچانا ضروری ہوگا، روئی  کے نیچے کان خشک رہ جانے  کی وجہ سے غسل نہ ہوگا،  غسل کی تکمیل کے لیے اسے ہٹاکر کان کے خشک حصے کو دھونا ضروری ہوگا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200694
تاریخ28-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں