بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رنگ سے ختنہ کرانا

سوال

 بچے کا ختنہ کرانے کا کوئی مخصوص طریقہ ہے جیساکہ پہلے متعارف تھا یعنی نائی یا ڈاکٹر سیزر،  دھاری دار چیز سے اس بڑھی ہوئی کھال کو کاٹتے ہیں ، جس میں خون بھی بہتا ہے اور زخم بھی ہو جاتاہے،  لیکن اب رنگ کے نام سے ختنہ سننے  میں آیا ہے جس میں بچے کی اس بڑھی ہوئی کھال میں رنگ ڈالی جاتی ہے جو کچھ دن کے بعد اس کھال کو گراد دیتی ہے اور وہ خود رنگ بھی نکل جاتی ہے یوں بچے کو تکلیف بھی نہیں ہوتی اور خون بھی نہیں بہتا، زخم بھی نہیں ہوتا۔  کیا اس طریقے پر ختنہ کرانا صحیح ہے؟

جواب

مذکورہ طریقے سے  بچے  کی ختنہ کروانا جائز ہے؛ اس لیے کہ اس طریقے سے بھی ختنے کا مقصود حاصل ہو جاتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200650
تاریخ28-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں